نئی دہلی،14؍ جون (ایس او نیوز) ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے ایک پینل نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں کی طرف سے عوام پر کیا جا رہا بلڈوزر کا ظلم کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سوشیل ایکٹیوسٹ آفرین فاطمہ اور اس کے خاندان پر ڈھائے جا رہے ظلم و ستم اور ناانصافیوں کے خلاف قانونی جنگ لڑنے اور اس کے لئے راحت فراہم کرنے کے مقصد سے اے پی سی آر کی طرف سے تشکیل شدہ پینل میں شامل ایڈوکیٹ کے کے رائی ، ایڈوکیٹ سعید صدیقی ، ایڈوکیٹ راجویندرا سنگھ ، ایڈوکیٹ نجم الثاقب ، ایڈوکیٹ پربال پرتاپ اور ایڈوکیٹ رویندرا سنگھ نے بتایا کہ ہم نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھی گئی آفرین کی والدہ اور اس کی چھوٹی بہن کے تعلق سے افسران سے بات چیت شروع کی تو پتہ چلا کہ انہیں 33 گھنٹے تک تفتیش کرنے کے بعد رہا کیا گیا۔
ہم نے ہائی کورٹ میں آفرین کے گھر کو غیرقانونی طور پر منہدم کرنے کے معاملہ میں فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضی داخل کی مگر ہائی کورٹ کی طرف سے اس درخواست کو مسترد کیا گیا ۔ اب غیر قانونی طور پر منہدم شدہ گھر کا ہرجانہ اور نئے مکان کی تعمیر کے لئے معاوضہ طلب کرتے ہوئے ایک نئی درخواست ہائی کورٹ میں داخل کی جائے گی ۔ ہم نے ان افسران کے خلاف بھی ضابطہ کی کارروائی اور قانونی اقدام کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اس ظالمانہ اور من مانی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔